ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

Kon seekha hai sirf baton se

زندگی آدھی ہے، ادھوری ہے
تیرا آنا بہت ضروری ہے

سامنے تو ہے لمحہ لمحہ مرے
اور زمیں آسماں کی دوری ہے

کوئی منطق ، کوئی دلیل نہیں
تو ضروری تو بس ضروری ہے

جیسے قسمت پہ اختیار نہیں 
یہ محبت بھی لا شعوری ہے

کون سیکھا ہے صرف باتوں سے 
سب کو اک حادثہ ضروری ہے

ایک بس تو رہا مری حسرت
اور ہر آرزو تو پوری ہے

لکھتے لکھتے گزر گیا ابرک
داستاں آج بھی ادھوری ہے

…………………….اتباف ابرک