ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

wo hum ko dil mai rakhay ga ya dil se ab nikalay ga

wo hum ko dil mai rakhay ga ya dil se ab nikalay ga

وہ ہم کو دل میں رکھے گا یا دل سے اب نکالے گا
اٹھے گا جب تلک پردہ تجسس مار ڈالے گا

میں اکثر جانچنے کو یہ بس اپنا حق جتاتا ہوں
کہاں تک بات مانے گا کہاں پر ہم کو ٹالے گا

کہاں ممکن تعین ہے ، تعلق کا رویوں سے
یقیں ہم پر ہے اس کو زخم سب چپ چاپ کھا لے گا

محبت کی ڈگر پر جو بھی نکلے سوچ کر نکلے
سفر یہ وہ نہیں ہے جو یہاں منزل بھی پا لے گا

کبھی سوچا گیا جو تھک کے دل کی وا گزاری کا
سوال اٹھا یہی, مصروفیت کیا اور پالے گا

چلن اہلِ وفا کا ہے اٹل خاموشیاں ابرک
زمانہ دیکھتا ہے سب، وہ خود قصہ اچھالے گا

اتباف ابرک……………………..……………………..…..