ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

Guzerna tha jinhain pehlo mai tere

guzerna tha jinhain pehlo mai tere

خیالوں میں جو سارے رہ گئے ہیں
کہاں میرے وہ پیارے رہ گئے ہیں

یوں مندہ کاروبارِ زندگی ہے
خسارے ہی خسارے رہ گئے ہیں

جو جیتے ہیں وہ دنیا داریاں ہیں
تعلق کب ہیں نعرے رہ گئے ہیں

کوئی اترے تو اترے پار کیسے
سمندر میں کنارے رہ گئے ہیں

اندھیری رات میں اندھا یہ سوچے
کہاں سب چاند تارے رہ گئے ہیں

مسائل در مسائل در مسائل
ہمی کیا اک بے چارے رہ گئے ہیں

ہم اترے چار دن میں ان کے دل سے
وہ دل میں ہی اتارے رہ گئے ہیں

پرے رہ راکھ سے تو احتیاطاً
ابھی کچھ کچھ شرارے رہ گئے ہیں

گزرنا تھا جنہیں پہلو میں تیرے
وہ سب دن بن گزارے رہ گئے ہیں

مری سوچیں خیال اور خواب سارے
فقط تیرے ہی بارے رہ گئے ہیں

بیاں کیسے کروں لفظوں میں تم کو
مرے سب استعارے رہ گئے ہیں

یہی ابرک گلہ ہے سب کو ہم سے
ہوئے جب سے تمہارے ، رہ گئے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک