ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

Younhi na tatulu hamain lafzon mai hamaray

Younhi na tatulu hamain lafzon mai hamaray

وہ لوگ جو کچھ روز جوانی میں ملیں گے
ہر شام وہ پھر تیری کہانی میں ملیں گے

ڈھونڈو نہ ہمیں دنیا کی رنگین فضا میں
ہم لوگ کسی یاد پرانی میں ملیں گے

حالات کی تپتی ہوئی دوپہر میں بچھڑے 
یہ طے ہے کسی شام سہانی میں ملیں گے

اک خواب تُلا رہتا ہے ہجرت پہ ہمہ وقت
اک روز اسی نقل مکانی میں ملیں گے

دعوی نہیں، امید نہیں، رکھتے یقیں ہیں
ہم پھر سے اسی کوچہِِ فانی میں ملیں گے

ملنا ہے اگر ہم سے تو پڑھ لیجئے ہم کو
ہم لوگ تری آنکھ کے پانی میں ملیں گے

یونہی نہ ٹٹولو ہمیں لفظوں میں ہمارے
ہم بات نہیں بات کے معنی میں ملیں گے

جب تک غمِ مطلوب ٹھکانے نہیں لگتا
لگتا ہے سخن، شعر روانی میں ملیں گے

اک بات یہی سوچ کے سنتا نہیں دل کی 
کچھ اور نئے غم ہی نشانی میں ملیں گے

ہر موڑ پہ ابرک ہمیں ہوتا ہے گماں یہ
اس موڑ پہ ہم پھر سے کہانی میں ملیں گے

یہ مصرعہِ اول تو یونہی کھینچ دیا ہے
مطلب تجھے سب مصرعہِ ثانی میں ملیں گے

…………. اتباف ابرک .