ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

AJ KUSH KHA SAKAIN MERE BACHAY

AJ KUSH KHA SAKAIN MERE BACHAY

تختہِ دار سے گزرتا ہوں
روز میں ٹوٹتا ، بکھرتا ہوں

میرے حصے وہ زندگی آئی
جس کو جیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

کُل اثاثہ ہیں حسرتیں میری
جن کا میں غم سے پیٹ بھرتا ہوں

روز اک بھوک پھر مقابل ہے
روز پھر اس کو فتح کرتا ہوں

مجھ کو لینا خزاں بہار سے کیا
سبز شاخوں سے میں تو جھڑتا ہوں

یہ بھی اک معجزے سے کم تو نہیں
ہر گھڑی ڈوبتا ، ابھرتا ہوں

گویا ہر سانس اک مشقت ہے
جب تلک میں لحد اترتا ہوں

میں ہوں معمار تیری بستی کا
تیرے خوابوں میں رنگ بھرتا ہوں

آج کچھ کھا سکیں مرے بچے
روز اس خوف سے نہ مرتا ہوں

………… اتباف ابرک