ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

JO TUM CHAHTAY HO WAHI CHAHTA HON

JO TUM CHAHTAY HO WAHI CHAHTA HON

جو تم چاہتے ہو وہی چاہتا ہوں
خوشی بس تری ہی خوشی چاہتا ہوں 

ابھی پاس آؤ ابھی چاہتا ہوں
میں پھر فاصلوں میں کمی چاہتا ہوں

یہ تم سے ملاقات ہے اک بہانہ
وجہ جینے کی بس کوئی چاہتا ہو ں

شروعات تم سے ختم تم پہ ہوں جو
شب و روز سارے وہی چاہتا ہوں

کرم، امتحاں وہ تب و تاب تیرے
سبھی یاد ہیں وہ سبھی چاہتا ہوں

ہوئے خشک ہیں جو جدائی میں سارے
میں ان آنسووں میں نمی چاہتا ہوں

نبھانا جہاں سے کہاں اب ہے ممکن
کسی اور کو ہر گھڑی چاہتا ہوں

یہی التجا اپنے رب سے ہے ابرک
اندھیرا ہوں میں, روشنی چاہتا ہوں

……………..اتباف ابرک