ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

GHARR NAHI HAI TOH ISSAY MAT KIJIYE

GHARR NAHI HAI TOH ISSAY MAT KIJIYE

گر نہیں ہے تو اسے مت کیجے
یونہی ضائع نہ محبت کیجے

کیا دکھاوے کا تعلق رکھنا
اس سے بہتر ہے کہ نفرت کیجے

جو نہیں تیرا اسی کا ہونا
ہے حماقت نہ حماقت کیجے

مار ڈالے گی مروت ہم کو
ختم ہر اپنی عنایت کیجے

بے وفا ہو یا ہو مجبور کوئی
بہ خوشی ایسوں کو رخصت کیجے 

جانے والوں کو دعا دے کے کہو
پھر سے آنے کی نہ زحمت کیجے

مانا مشکل ہے سنبھلنا دل کا
دل سے ہر گز نہ رعایت کیجے

دل کی فطرت ہے بغاوت کرنا
اب کہ اس دل سے بغاوت کیجے

ایک ہی شخص کو لکھے جانا
بند ابرک یہ بلاغت کیجے

اپنے حصے میں بھی کچھ رکھ لیجے
اب کہ ابرک جو محبت کیجے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک