ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

Bus ak shakhs ka hi talbgar ho geya

Bus ak shakhs ka hi talbgar ho geya- urdu judai poetry whatsaap

بس ایک شخص کا ہی طلب گار ہو گیا
آخر یہ دل بھی صاحبِ کردار ہو گیا

جب سے لگا ہے تم سے کسی کام کا نہیں
جی لٹ کے میرا اور بھی جی دار ہو گیا

کتنی کرید تھی کہ قیامت ہے کیا بلا
اچھا ہوا کہ آپ کا دیدار ہو گیا

آغاز کو خبر نہ تھی انجام ہو گا یہ
بن کچھ کئے یہ بندہ خطا وار ہو گیا

آگے کا خواب دوستو تھا اور بھی حسیں
اس ڈر سے ڈر کے بیچ میں بیدار ہو گیا

تھیں منزلیں ہزار نگاہوں کے سامنے
تیرا خیال راہ کی دیوار ہو گیا

اپنا تو سر جھکا تھا یہ تعظیم کے لئے 
کم ظرف یہ زمانہ تو سرکار ہو گیا

فقرہ تھا آخری یہ کہانی کا دل نشیں
پھر یوں ہوا کہ غم مرا غم خوار ہو گیا

ابرک، اسی میں ڈر سے نہیں مانگتا اسے
کیا ہو گا گر وہاں سے بھی انکار ہو گیا

جانے لکھے میں تیرے ہے ابرک یہ سحر کیا
ہر شخص دل و جاں سے خریدار ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک