ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

bari mushklon se sulaya tha jin ko

bari mushklon se sulaya tha jin ko-ghazal urdu love

ہے موسم کی عادت گرجنا برسنا 
کہیں خوش کرے یہ کہیں آزمائے

کوئی یاد کر کے کسے رو پڑے گا 
یہ سوچے نہ سمجھے برستا ہی جائے

برستا ہے یکساں سبھی آنگنوں میں 
سبھی آنگنوں میں نہ یہ مسکرائے

وہاں جا کے برسے جہاں زندگی ہے 
یہ سب جھوٹے قصے نہ ہم کو سنائے

بڑی مشکلوں سے سلایا تھا جن کو 
وہ ہر خواب رم جھم یہ پھر سے جگائے

نئی بارشوں میں نہیں بھیگنا ہے 
ابھی پچھلی برکھا ہے ہم کو جلائے 

…………………………………….. اتباف ابرک