ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

Khud ko mehnga kiya buhat

Khud ko mehnga kiya buhat- sad poetry about life

ہار سے بھی امید لیتے ہیں
جیتنے کی نوید لیتے ہیں 

زندگی زہر بھی ہے شہد بھی ہے
ہم پہ ہے کیا کشید لیتے ہیں

کتنے احساس لفظ ہیں رکھتے
ہم ہی مطلب شدید لیتے ہیں

خود کو مہنگا کیا بہت لیکن
لوگ پھر بھی خرید لیتے ہیں

غم گساری نہ تو سمجھ لینا
سب یہ مخبر ہیں، بھید لیتے ہیں

اپنے وعدوں سے مکر ہیں جاتے 
ہم سے پہلے رسید لیتے ہیں

دل ہے بے کار اب یہ سینے میں 
بیچ کر کچھ مفید لیتے ہیں

غم سے دنیا کنارہ کرتی ہے
آپ ابرک مزید لیتے ہیں 

……………………….اتباف ابرک