یہ بھی لازم ہے وہ بھی لازم ہےکیسی مشکل میں ابن آدم ہے حادثہ حادثے میں ہے مدغم نت نیا روز ایک ماتم ہے کیا کوئی شخص مطمئن ہے یہاںہر کسی کو کسی کا ہی غم ہے جو مرے پاس وہ نہ چاہوں میںجو نہیں پاس بس وہی کم ہے کوئی…
کچھ یوں کرو کہ آئے وہ مہماں ابھی ابھی یا یہ کرو کہ جائے مری جاں ابھی ابھی جھیلا ہے تجھ کو زندگی کچھ اس یقین سے ہونے لگی ہے جیسے تو آساں ابھی ابھی پھر اس کی یاد آئی بجھانے کے واسطے ہم نے کیا تھا دل میں چراغاں…
ہے موسم کی عادت گرجنا برسنا کہیں خوش کرے یہ کہیں آزمائے کوئی یاد کر کے کسے رو پڑے گا یہ سوچے نہ سمجھے برستا ہی جائے برستا ہے یکساں سبھی آنگنوں میں سبھی آنگنوں میں نہ یہ مسکرائے وہاں جا کے برسے جہاں زندگی ہے یہ سب جھوٹے قصے نہ ہم کو سنائے…