زخم اکتا کے کئی بار ہیں رونا بھولے دنیا، دنیا ہے یہ نشتر نہ چبھونا بھولے تیرنا ہم کو نہیں آئے گا جب یہ طے ہے آو منت کریں دریا سے ڈبونا بھولے ایسے مصروف ہوئے آج...
koi nukhsa na dua detay hain

زخم اکتا کے کئی بار ہیں رونا بھولے دنیا، دنیا ہے یہ نشتر نہ چبھونا بھولے تیرنا ہم کو نہیں آئے گا جب یہ طے ہے آو منت کریں دریا سے ڈبونا بھولے ایسے مصروف ہوئے آج...
میں تو ہوں صرف قصہ خواں اس میں دنیا تیری ہے داستاں اس میں چاہے کوئی بھی دل ٹٹولو تم کوئی رہتا ہے نیم جاں اس میں کٹ رہا ہے شجر شجر یہ چمن کیسے غافل ہیں باغباں...
مختصر بات، بات کافی ہے اک ترا ساتھ، ساتھ کافی ہے جو گزر جائے تیرے پہلو میں ہم کو اتنی حیات کافی ہے میں ہوں تیرا، مرا وجود ہے تُو کُل یہی کائنات کافی ہے لاکھ...
یادوں کی بھیڑ میں بخوشی سنگسار ہے جو بھی ملا یہاں پہ وہی سوگوار ہے لگ کر گلے سے جس کے تو رویا ہے عمر بھر جانے وہ خود ہے غم یا ترا غم گسار ہے دل بھی ہمارا ہم سا...
اس محبت کے کرم سے پہلے خود کو جیتا تھا میں تم سے پہلے حسرت و یاس و الم سے پہلے دل یہ مغرور تھا غم سے پہلے چوٹ لازم ہے شفا یابی کو کون سمجھا ہے ستم سے پہلے تم...