ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

bus talab chaye ki piyali hai

bus talab chaye ki piyali hai

بس طلب چائے کی پیالی ہے
ہم سا بھی کب کوئی سوالی ہے

ایک بس چاہ اور چائے ہے
باقی ہر شے تو اب گنوا لی ہے

اس محبت کی اور چائے کی
کب کسی چیز نے جگہ لی ہے

بے وفائی یوں کی ہے چائے سے
ایک رکھی تو اک اٹھا لی ہے

لاکھ دیکھیں ہیں چائے خانے پر
نہ وہ ساقی نہ وہ پیالی ہے

اپنی ہر پیاس ہم نے تو ابرک
اپنی چائے میں ہی بجھا لی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک