ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

apnay ander jo hian shaitan ye palay mai ne

apnay ander jo hian shaitan ye palay mai ne

اپنے اندر جو ہیں شیطان یہ پالے میں نے
اے مرے رب تو ذرا ان کو تو غارت کر دے

حق و باطل میں نظر فرق مجھے صاف آئے
نیک بس راہ چلوں ایسی تو فطرت کر دے

میں جو شک کرتا ہوں لوگوں پہ یوں لمحہ لمحہ
خوش گمانی کو مرے رب مری عادت کر دے

دین دنیا سے جدا کر کے میں شرمندہ ہوں
ان میں قربت جو ہے لازم ، وہی قربت کر دے

مجھے بھٹکانے کو کرتا ہے جو حیلے شیطاں
کارگر مجھ پہ وہ ہوں، اُُس کی یہ حسرت کر دے

ہم جو کمزور ہوئے فرقوں میں یوں بٹ بٹ کر
سارے فرقوں کو ملا، ایک ہی ملت کر دے

روزِ محشر ہو مجھے قرب محمد ﷺ کا نصیب
میری ہر سانس کو بس ان کی ہی سنت کر دے

اور ابرک کو نظر آئے نہ کچھ تیرے سوا
اس محبت میں مرے رب تو یہ شدت کر دے

……………………..……………………..….اتباف ابرک