ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

jeena Aasaan ger yaha hota

jeena Aasaan ger yaha hota

ہم جو دنیا پہ مر گئے ہوتے
سنگ و صحرا کدھر گئے ہوتے

جینا آسان گر یہاں ہوتا
کب کا یہ کام کر گئے ہوتے

جو اِدھر کو گئے وہ سوچتے ہیں
کاش ہم بھی اُدھر گئے ہوتے

ہم کو حالات ہیں لئے پھرتے
ورنہ ہم سے کدھر گئے ہوتے

مل بھی جاتے جو راستے گھر کے
لے کے وحشت ہی گھر گئے ہوتے

سیکھ لیتے سبق جو اوروں سے
ہم سے کتنے سدھر گئے ہوتے

یہ انا ہے وگرنہ ہم کب کے
ریزہ ریزہ بکھر گئے ہوتے

تم سمندر مزاج تھے ابرک
ہوتے دریا اتر گئے ہوتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک