ATBAF ABRAK

( افتاب اکبر )

phir se aya chanao hai abrak

phir se aya chanao hai abrak

جو نہ ہوتا ہے وہ دکھاتا ہوں
اپنے کرتوت سب چھپاتا ہوں

دل ہی دل خوب مسکراتا ہوں
خود کو خادم میں جب بتاتا ہوں

سیہ لگنے لگے سفید مرا
بات اس طور سے گھماتا ہوں

روپ لیڈر کا پر لٹیرا ہوں
بس نقابوں میں سج کے آتا ہوں

لوٹتا ہوں میں اس صفائی سے
چور کا شور خود مچاتا ہوں

جب بھی آئیں چناو کی گھڑیاں
شعبدہ بازیاں دکھاتا ہوں

جینا مشکل ہے اقتدار بنا
سو میں ہر داو آزماتا ہوں

عزتیں ووٹ کو یوں دیتا ہوں
ووٹ کی قیمتیں لگاتا ہوں

زور سے، مال سے، خرید کے سب
پھر کئی سال میں کماتا ہوں

ہے یہ جمہور کھیل میرے لئے
ہر اناڑی سے جیت جاتا ہو ں

میرا ہتھیار ہے سیاست یہ
بھائی بھائی سے میں لڑاتا ہوں

گویا نعرے سبھی پرانے ہیں
نئے سُر تال بس لگاتا ہوں

صرف بھاشن ہیں میرے سب وعدے
جیت کر سب میں بھول جاتا ہوں

پُر یقیں ہے نظام بوسیدہ
جیتے کوئی بھی میں ہی آتا ہوں

یہاں جمہور ہو یا آمر ہو
میں ہی سب ڈوریاں ہلاتا ہوں

پھر سے آیا چناو ہے ابرک
چلو پھر ووٹ آزماتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک